مرے آنسو ہمیشہ ہیں برنگ لعل غرق خون — شیخ ابراہیم ذوق
“My tears are ever ruddy-hued, forever drowned in blood— So what if you dived into the water and struck a pearl?”
معنی
میرے آنسو ہمیشہ لال رنگ کے اور خون میں ڈوبے رہتے ہیں، تو اگر تو نے پانی میں غوطہ لگا کر کوئی موتی نکال لیا تو اس میں کیا بڑی بات ہے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر اپنے آنسوؤں کو لعل کی مانند سرخ اور خون میں ڈوبا ہوا بتاتا ہے — یعنی اس کا غم اتنا گہرا ہے کہ آنسو بھی خون بن گئے ہیں۔ وہ غوطہ خور سے کہتا ہے کہ تو نے سمندر میں ڈبکی لگا کر ایک موتی نکال لایا تو کون سا بڑا کمال کر دیا؟ میری آنکھیں تو خون کے سمندر میں ہر پل ڈوب کر سرخ موتی (خونی آنسو) پیدا کرتی ہیں۔ یہاں عاشق کے درد کی شدت کو غوطہ خور کی محنت سے بڑھ کر دکھایا گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
