بڑے موذی کو مارا نفس امّارا کو گر مارا — شیخ ابراہیم ذوق
“If you have slain the tyrant-self, the soul that goads to sin, you've slain the mightiest foe within; But if you merely killed the crocodile, the dragon, or the lion-male—what of it? What great deed have you done then?”
معنی
اگر تم نے بڑے موذی یعنی گناہ پر اکسانے والے نفسِ امّارہ کو مار ڈالا تو تم نے سب سے بڑے دشمن کو مارا۔ لیکن اگر صرف نہنگ، اژدہا یا نر شیر کو مارا تو اس میں کیا بڑی بات ہے؟
تشریح
اس شعر میں شاعر یاد دلاتا ہے کہ اصل جنگ باہر نہیں بلکہ اپنے دل کے اندر ہے۔ نہنگ، اژدہا اور نر شیر جیسے خونخوار جانوروں کو مارنا کوئی بڑی بات نہیں، یہ تو محض بیرونی دشمن ہیں۔ سب سے بڑا اور خطرناک دشمن تو 'نفسِ امّارہ' ہے، یعنی وہ من جو ہمیں ہر دم برائی کی طرف اکساتا ہے۔ اگر تم نے اس اندرونی شیطان کو مار لیا، تبھی سمجھو کہ تم نے سب سے بڑی فتح پائی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
