دل بدخواہ میں تھا مارنا یا چشم بدبین میں — شیخ ابراہیم ذوق

دل بدخواہ میں تھا مارنا یا چشم بدبین میں فلک پر ذوق تیر آہ گر مارا تو کیا مارا

“The ill-wisher's heart, or the evil-eyed gaze, was where I should have struck; If, O Zauq, I loosed the arrow of my sigh upon the sky, what have I struck?”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

مارنا تو بدخواہ کے دل میں یا بری نظر والی آنکھ میں چاہیے تھا؛ اے ذوق، اگر آہ کا تیر آسمان پر چلا دیا تو کیا مارا، کچھ بھی نہیں۔

تشریح

ذوق یہاں اپنی آہ کو ایک تیر کی طرح دیکھتے ہیں، مگر افسوس کرتے ہیں کہ یہ تیر غلط نشانے پر جا لگا۔ اس آہ کا بان تو اُس بدخواہ کے دل پر یا اُس بدبیں کی آنکھ پر چلانا چاہیے تھا جو دکھ کا اصل سبب ہے، مگر یہ بے کار آسمان کی طرف اڑ گیا۔ اس میں ایک گہری تڑپ چھپی ہے کہ ہماری شکایت اور درد اکثر اصل ذمہ دار تک نہیں پہنچتے، بس فلک کی جانب جا کر رائیگاں ہو جاتے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev12 / 12