خطا تہ دل کی تھی قاتل بہت سی مار کھائیکی — شیخ ابراہیم ذوق
“The fault lay deep within my heart, O slayer, and much I suffered for it; When your tresses bound my arms and struck me down—what feat was that in striking?”
معنی
خطا تو دل کی گہرائی میں تھی، اے قاتل، اور اس کے لیے میں نے بہت مار کھائی؛ جب تیری زلفوں نے میری بانہیں باندھ کر مجھے مارا تو اس میں کیا بڑی بات تھی۔
تشریح
اس شعر میں عاشق اپنے قاتل محبوب سے نرمی سے گلہ کرتا ہے کہ اصل خطا تو میرے دل کی گہرائی میں تھی — یعنی میرا عشق ہی میرا گناہ تھا، اور اس کی سزا میں پہلے ہی بہت بھگت چکا ہوں۔ پھر جب تیری زلفوں نے میرے ہاتھ باندھ کر، مجھے بے بس کر کے مارا تو اس میں تیری کیا بہادری؟ بندھے اور نہتے کو مارنا تو کوئی کمال نہیں۔ یہاں زلفوں کا بندھن عشق کی گرفتاری کا خوبصورت اشارہ ہے، جہاں عاشق کی بے بسی ہی اس کی محبت کی سچائی کا ثبوت ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
