کسی بیکس کو اسے بیداد گر مارا تو کیا مارا — شیخ ابراہیم ذوق
“If the tyrant slew some helpless one, what glory in that slaughter lies? One who is already dying—if you killed him, what great conquest lies?”
معنی
اگر کسی ظالم نے کسی بیکس کو مار دیا تو اس میں کیا بڑائی ہے؟ جو پہلے ہی مر رہا ہو، اُسے مار دینے میں کون سی بہادری ہے؟
تشریح
اس شعر میں شاعر ظالم پر طنز کرتا ہے کہ کسی بیکس اور لاچار کو مار دینا کون سی بہادری ہے۔ جو شخص پہلے ہی موت کے دروازے پر کھڑا ہو، جو خود ہی گھل گھل کر مر رہا ہو، اُسے قتل کر کے تم نے کیا فتح پائی؟ یہاں ایک نرم اشارہ اُس عاشق کی طرف بھی ہے جو محبوب کے غم میں پہلے ہی جاں بلب ہوتا ہے—اُس پر ستم ڈھانا کوئی کمال نہیں۔ یہ ظلم کی بے معنویت اور اُس کی کھوکھلی طاقت پر ایک گہرا اور دردناک تبصرہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
