دل سنگین خسرو پر بھی ضرب کوہکن پہونچی — شیخ ابراہیم ذوق

دل سنگین خسرو پر بھی ضرب کوہکن پہونچی اگر تیشہ سر کہسار پر مارا تو کیا مارا

“Even upon Khusrau's heart of stone the mountain-digger's blow has fallen; If he struck his pick against the mountain's peak, what did that striking matter?”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

خسرو کے پتھر جیسے سخت دل پر بھی کوہکن (فرہاد) کی ضرب پہنچ گئی؛ اگر اس نے تیشے سے پہاڑ کی چوٹی پر وار کیا تو اس میں کیا بڑی بات تھی۔

تشریح

اس شعر میں کوہکن یعنی فرہاد کا ذکر ہے، جس نے اپنی محبوبہ شیریں کی خاطر پہاڑ کاٹنے کا بیڑا اٹھایا تھا۔ شاعر کہتا ہے کہ فرہاد کے تیشے کی اصل ضرب تو خسرو کے پتھر جیسے سخت دل پر پڑی — یعنی اس کے عشق اور لگن نے حریف کے سنگین دل کو بھی ہلا دیا۔ پہاڑ کی چوٹی پر تیشہ مارنا کوئی بڑی بات نہیں؛ اصل کمال تو کسی پتھر دل کو موہ لینا ہے۔ اس میں یہ گہری بات پوشیدہ ہے کہ سچی محنت اور محبت کی طاقت انسانی دلوں کو جیتنے میں ہے، نہ کہ پہاڑ توڑنے میں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.