نہ مارا آپکو جو خاک ہو اکسیر بن جاتا — شیخ ابراہیم ذوق

نہ مارا آپکو جو خاک ہو اکسیر بن جاتا اگر پارے کو اے اکسیر گر مارا تو کیا مارا

“You slew not your own self—had you, mere dust would turn to elixir's gold; O alchemist, if you but killed the quicksilver, what feat have you controlled?”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

تم نے اپنے آپ (نفس) کو نہیں مارا، ورنہ جو خاک تھی وہ بھی اکسیر بن جاتی؛ اے کیمیا گر، اگر تم نے صرف پارے کو مارا تو اس میں کیا کمال کیا؟

تشریح

اس شعر میں شاعر کیمیا گری کی زبان میں ایک گہری روحانی بات کہتا ہے۔ پارے کو 'مارنا' یعنی اسے صاف کرنا کوئی بڑا کمال نہیں، اصل ہنر تو یہ ہے کہ تو اپنے 'آپ' یعنی اپنی خودی کو مار دے۔ جب انسان اپنی ہستی مٹا دیتا ہے تو وہی خاک اکسیر بن جاتی ہے جو ہر شے کو سونا کر دے۔ یہاں صوفیانہ 'فنا' یعنی خودی کے مٹانے کی طرف خوبصورت اشارہ ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.