تفنگ و تیر تو ظاہر نہ تھا کچھ پاس قاتل کے — شیخ ابراہیم ذوق
“No musket, no arrow was visibly borne by the slayer's hand; That glance he took, aiming straight at my heart—what a shot he struck!”
معنی
قاتل کے پاس نہ تو بندوق ظاہر تھی اور نہ تیر؛ پھر اُس نے نشانہ باندھ کر جو دل پر وار کیا، تو کیا ہی خوب وار کیا۔
تشریح
شاعر حیرت سے کہتا ہے کہ قاتل یعنی محبوب کے ہاتھ میں نہ بندوق تھی نہ تیر، کوئی ظاہری ہتھیار دکھائی نہ دیا۔ مگر جب اُس نے تاک کر سیدھی دل پر ایک نگاہ ماری تو وہی ایک نظر ہر گولی اور تیر سے زیادہ کاری ثابت ہوئی۔ یہاں محبوب کی نگاہ کو سب سے مہلک ہتھیار بتایا گیا ہے، جو بغیر کسی اسلحے کے عاشق کا کام تمام کر دیتی ہے۔ اصل زخم وہی ہے جو آنکھوں کے اشارے سے لگے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
