جگر زخمی ہے اور دل لوٹتا ہے تمنے کیا جانا — شیخ ابراہیم ذوق

جگر زخمی ہے اور دل لوٹتا ہے تمنے کیا جانا ادھر مارا تو کیا مارا اُدھر مارا تو کیا مارا

“My liver is wounded and my heart writhes in pain—how could you ever know? If you struck here, what of that strike; if you struck there, what of that blow.”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

میرا جگر زخمی ہے اور دل تڑپ رہا ہے، تم نے یہ کبھی نہ جانا۔ خواہ اِدھر وار کیا یا اُدھر، اُس وار کی کیا حقیقت۔

تشریح

اس شعر میں شاعر اپنے اندر کے درد کو کھول کر رکھ دیتا ہے—جگر زخمی ہے اور دل تڑپ رہا ہے، مگر محبوب اس تکلیف کو کبھی سمجھ ہی نہ سکا۔ جگر اور دل یہاں محبت اور برداشت کی علامت ہیں، اور شاعر کہتا ہے کہ تم ادھر وار کرو یا اُدھر، ہر چوٹ بے معنی لگتی ہے کیونکہ اصل زخم تو پہلے ہی لگ چکا ہے۔ اس میں ایک گہری شکایت اور بے بسی ہے—جو دل پہلے ہی پوری طرح گھائل ہو، اُسے مزید مارنے کا کیا فائدہ۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.