غزل
यार ने हम से बे-अदाई की
यार ने हम से बे-अदाई की
یہ غزل ایک دوست کی طرف سے کیے گئے بے ادبی اور جذباتی صدمے کے بارے میں ہے۔ شاعر بیان کرتے ہیں کہ وصال کی رات میں بھی لڑائی ہوئی، اور بہار کے ساتھ بال و پر بھی چلے گئے۔ یہ غزل بتاتی ہے کہ عشق کے دکھوں کا کوئی انت نہیں اور ہر چیز کا ایک رفتار ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
यार ने हम से बे-अदाई की
वस्ल की रात में लड़ाई की
یار نے ہم سے بے ادبی کی، یعنی دوست نے مجھ سے شرارت کی، وُصل کی رات میں لڑائی کی، یعنی ملاقات کی رات میں جھگڑا کیا۔
2
बाल-ओ-पर भी गए बहार के साथ
अब तवक़्क़ो नहीं रिहाई की
بہار پتوں اور پرندوں کے ساتھ چلی گئی ہے، اس لیے اب آزادی یا رہائی ممکن نہیں ہے۔
3
कुल्फ़त-ए-रंज-ए-इश्क़ कम न हुई
मैं दवा की बहुत शिफ़ाई की
محبت کے دکھ کی 'کُلفت' کم نہ ہوئی، حالانکہ میں نے بہت دوا اور شفا دی۔
4
तुर्फ़ा रफ़्तार के हैं रफ़्ता सब
धूम है उस की रहगिराई की
اس کا مطلب ہے کہ ہر چیز کی رفتار اس تیز رفتاری سے ماپی جاتی ہے، کیونکہ اس کی زندگی کی دھڑکن ہی ایک دم ہے۔
5
ख़ंदा-ए-यार से तरफ़ हो कर
बर्क़ ने अपनी जग-हँसाई की
خندے-ئے یار کی طرف ہو کر، بجلی نے اپنی جگ ہنسائی کی
6
कुछ मुरव्वत न थी उन आँखों में
देख कर क्या ये आश्नाई की
ان آنکھوں میں کوئی غم نہیں تھا، دیکھ کر کیا یقین کیا جا سکتا ہے؟
7
वस्ल के दिन को कार-ए-जाँ न खिंचा
शब न आख़िर हुई जुदाई की
وُصل کے دن کو کارِ جان نے نہ کھینچا، شب نہ آخر ہوئی جدائی کی
8
मुँह लगाया न दुख़्तर-ए-रज़ को
मैं जवानी में पारसाई की
میں نے دکھترِ رَز کے سامنے اپنا منہ نہیں لگایا؛ میں نے اپنی جوانی میں ہی پرسائی کی۔
9
जौर उस संग-दिल के सब न खिंचे
उम्र ने सख़्त बेवफ़ाई की
اس دل کی طاقت ایسی ہے کہ دنیا اسے نہیں کھینچ سکتی؛ اس نے زندگی میں کڑوی بے وفائی برداشت کی ہے۔
10
कोहकन क्या पहाड़ तोड़ेगा
इश्क़ ने ज़ोर-आज़माई की
کمزور دل سے یہ کیسے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ پہاڑ کو توڑے گا، جب عشق نے پہلے ہی اسے اتنی زبردست آزمائشوں سے گزارا ہے۔
11
चुपके उस की गली में फिरते रहे
देर वाँ हम ने बे-नवाई की
ہم خاموشی سے اس کی گلی میں گھومتے رہے، اور کافی دیر تک ہم بے وجہ پریشانی میں رہے۔
12
इक निगह में हज़ार जी मारे
साहिरी की कि दिलरुबाई की
ایک نگاہ میں ہزار جی مارے، ساحری کی کہ دلربائی کی۔
13
निस्बत उस आस्ताँ से कुछ न हुई
बरसों तक हम ने जब्हा-साई की
اس آستان سے کوئی نسبت نہیں ہوئی، برسوں تک ہم نے بس साईं की भक्ति की।
14
'मीर' की बंदगी में जाँ-बाज़ी
सैर सी हो गई ख़ुदाई की
میر کی بندگی میں جان-بازی، سیر سی ہو گئی خدا کی।
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
