غزل

हैं बा'द मिरे मर्ग के आसार से अब तक

हैं बा'द मिरे मर्ग के आसार से अब तक
میر تقی میر· Ghazal· 12 shers

یہ غزل زندگی میں محبت اور وفاداری کی امیدوں پر مبنی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میری موت کے بعد بھی، اور ہر طرف، محبت کی کوئی امید باقی ہے۔ وہ اپنے دل کے زخموں اور بے وفائی کے تجربات کو بیان کرتا ہے، اور کہتا ہے کہ اسے ابھی تک کسی سے سچا ساتھ نہیں ملا۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
हैं बा'द मिरे मर्ग के आसार से अब तक सूखा नहीं लोहू दर-ओ-दीवार से अब तक
ہیں بعد مرے مرگ کے آثار سے اب تک سوکھا نہیں لوہو در و دیوار سے اب تک
میرے مرنے کے بعد سے، زندگی کے کوئی آثار نہیں ہیں، اور نہ ہی دروازے یا دیواروں پر خون خشک ہوا ہے۔
2
रंगीनी-ए-इश्क़ इस के मिले पर हुई मा'लूम सोहबत न हुई थी किसी खूँ-ख़्वार से अब तक
رنگینیٔ عشق اس کے ملے پر ہوئی معلوم صحبت نہ ہوئی تھی کسی خونخوار سے اب تک
اس کے رنگینی-ئے عشق کا ملنا معلوم ہوا، کیونکہ اب تک کسی خونخوار کے ساتھ نہیں رہا۔
3
कब से मुतहम्मिल है जफ़ाओं का दिल-ए-ज़ार ज़िन्हार-वफ़ा हो न सकी यार से अब तक
کب سے متحمل ہے جفاؤں کا دل زار زنہار وفا ہو نہ سکی یار سے اب تک
یہ غمگین دل کب تک جفاوں کو سہتا رہے گا؟ اب تک تو وفا کا وعدہ یار سے پورا نہ ہو سکا۔
4
अबरू ही की जुम्बिश ने ये सुथराओ किए हैं मारा नहीं उन ने कोई तलवार से अब तक
ابرو ہی کی جنبش نے یہ ستھراؤ کیے ہیں مارا نہیں ان نے کوئی تلوار سے اب تک
ابرو ہی کی حرکتوں نے یہ نازک چیزیں بنائی ہیں، اور آج تک ان پر کسی تلوار نے وار نہیں کیا ہے۔
5
वा'दा भी क़यामत का भला कोई है वा'दा पर दिल नहीं ख़ाली ग़म-ए-दीदार से अब तक
وعدہ بھی قیامت کا بھلا کوئی ہے وعدہ پر دل نہیں خالی غم دیدار سے اب تک
اے وعدہ، کیا کوئی وعدہ قیامت سے بہتر ہے؟ مگر دل خالی نہیں ہے، ابھی تک دیدار کے غم سے بھرا ہے۔
6
मुद्दत हुई घुट घुट के हमें शहर में मरते वाक़िफ़ न हुआ कोई उस असरार से अब तक
مدت ہوئی گھٹ گھٹ کے ہمیں شہر میں مرتے واقف نہ ہوا کوئی اس اسرار سے اب تک
بہت عرصہ ہو گیا ہے کہ ہم شہر میں گھٹ گھٹ کے مر رہے ہیں؛ ابھی تک کسی کو اس راز کے اثر سے خبر نہیں ہے۔
7
बरसों हुए दिल-सोख़्ता बुलबुल को मूए लेक इक दूद सा उठता है चमन-ज़ार से अब तक
برسوں ہوئے دل سوختہ بلبل کو موئے لیک اک دود سا اٹھتا ہے چمن زار سے اب تک
سالوں سے دل شکستہ بلبل، اب چمن کے جادو سے ایک میٹھی دھار بن کر اٹھ رہا ہے۔
8
क्या जानिए होते हैं सुख़न लुत्फ़ के कैसे पूछा नहीं उन ने तो हमें प्यार से अब तक
کیا جانیے ہوتے ہیں سخن لطف کے کیسے پوچھا نہیں ان نے تو ہمیں پیار سے اب تک
یہ کیسے معلوم کہ بات چیت کا لطف کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے اب تک پیار سے ہمیں نہیں پوچھا۔
9
उस बाग़ में अग़्लब है कि सरज़द न हुआ हो यूँ नाला-कसो मुर्ग़-ए-गिरफ़्तार से अब तक
اس باغ میں اغلب ہے کہ سرزد نہ ہوا ہو یوں نالہ کسو مرغ گرفتار سے اب تک
اس باغ میں ایک ایسا راز ہے جو ظاہر نہیں ہوا، اور نہ ہی قفس میں بند مرغے کو اب تک سکون ملا ہے۔
10
ख़त आए पे भी दिन है सियह तुम से हमारा जाता नहीं अंधेर ये सरकार से अब तक
خط آئے پہ بھی دن ہے سیہ تم سے ہمارا جاتا نہیں اندھیر یہ سرکار سے اب تک
خط آنے پر بھی دن श्याम ہے تم سے ہمارا۔ یہ اندھیرا سرکار سے اب تک نہیں جاتا۔
11
निकला था कहीं वो गुल-ए-नाज़ुक शब-ए-मह में सो कोफ़्त नहीं जाती है रुख़्सार से अब तक
نکلا تھا کہیں وہ گل نازک شب مہ میں سو کوفت نہیں جاتی ہے رخسار سے اب تک
وہ کہیں چاندنی رات میں ایک نازک پھول کی طرح نکلا تھا، اور تب سے وہ سرخی اس کے رخسار سے نہیں گئی۔
12
देखा था कहीं साया तिरे क़द का चमन में हैं 'मीर'-जी आवारा-परी दार से अब तक
دیکھا تھا کہیں سایہ ترے قد کا چمن میں ہیں میرؔ جی آوارہ پری دار سے اب تک
کیا میں نے کہیں تمہاری قد کی سایا ایک باغ میں دیکھی تھی؟ میر جی، آوارہ پری اب تک یہاں ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.