غزل
ग़म्ज़े ने उस के चोरी में दिल की हुनर किया
ग़म्ज़े ने उस के चोरी में दिल की हुनर किया
یہ غزل عشق اور زندگی کے پیچیدہ تجربات کا احاطہ کرتی ہے، جو دکھاتی ہے کہ کس طرح محبت کے رنگ اور روزگار کی ذمہ داریاں روح کو تھکا دیتی ہیں۔ یہ رشتوں اور زندگی کی توقعات کی وجہ سے دل کے سکون کے چھن جانے کا بیان ہے۔
نغمہ سنیں
1
ग़म्ज़े ने उस के चोरी में दिल की हुनर किया
उस ख़ानुमाँ-ख़राब ने आँखों में घर किया
غمزے نے اس کے چوری میں دل کی ہنر کیا
اس خانماں خراب نے آنکھوں میں گھر کیا
غَمّزے نے اس کے چوری میں دل کی ہنر کیا، / اُس خَانُوमाँ-ख़राब نے آنکھوں میں گھر کیا۔
2
रंग उड़ चला चमन में गुलों का तो क्या नसीम
हम को तो रोज़गार ने बे-बाल-ओ-पर किया
رنگ اڑ چلا چمن میں گلوں کا تو کیا نسیم
ہم کو تو روزگار نے بے بال و پر کیا
اگر چمن میں گُلوں کے رنگ اڑ گئے تو کیا غرض، اے نسیم؟ کیونکہ میرے روزگار نے مجھے بے حال و پر کیا ہے۔
3
नाफ़े जो थीं मिज़ाज को अव्वल सो इश्क़ में
आख़िर उन्हीं दवाओं ने हम को ज़रर किया
نافع جو تھیں مزاج کو اول سو عشق میں
آخر انہیں دواؤں نے ہم کو ضرر کیا
جو نفعے تھے مزاج کو اوّل، سو عشق میں آخِر انہی ادویوں نے ہم کو زَرر کیا۔
4
मरता हूँ जान दें हैं वतन-दारीयों पे लोग
और सुनते जाते हैं कि हर इक ने सफ़र किया
مرتا ہوں جان دیں ہیں وطن داریوں پہ لوگ
اور سنتے جاتے ہیں کہ ہر اک نے سفر کیا
لوگ وطن کی حفاظت کے لیے جان دینے کو تیار رہتے ہیں، پھر بھی لوگ یہ سنتے رہتے ہیں کہ ہر ایک نے سفر کیا ہے۔
5
क्या जानूँ बज़्म-ए-ऐश कि साक़ी की चश्म देख
मैं सोहबत-ए-शराब से आगे सफ़र किया
کیا جانوں بزم عیش کہ ساقی کی چشم دیکھ
میں صحبت شراب سے آگے سفر کیا
مجھے بزمِ عیش کا کیا علم، ساقی کی چشم دیکھ، میں صحبتِ شراب سے آگے سفر کیا۔
6
जिस दम कि तेग़-ए-इश्क़ खिंची बुल-हवस कहाँ
सुन लीजियो कि हम ही ने सीना-सिपर किया
جس دم کہ تیغ عشق کھنچی بوالہوس کہاں
سن لیجیو کہ ہم ہی نے سینہ سپر کیا
جس لمحے عشق کا تیر نکلا، وہاں ہوس کہاں؟ سن لیجیو کہ ہم نے سینہ ڈھال بنا دیا۔
7
दिल ज़ख़्मी हो के तुझ तईं पहुँचा तो कम नहीं
इस नीम-कुश्ता ने भी क़यामत जिगर किया
دل زخمی ہو کے تجھ تئیں پہنچا تو کم نہیں
اس نیم کشتہ نے بھی قیامت جگر کیا
اگر میں زخم دل لیے ہوئے تجھ تک پہنچوں گا تو کم نہیں ہوگا؛ اس نیم-زہرے دل نے بھی قیامت کا سامنا کیا ہے۔
8
है कौन आप में जो मिले तुझ से मस्त नाज़
ज़ौक़-ए-ख़बर ही ने तो हमें बे-ख़बर क्या
ہے کون آپ میں جو ملے تجھ سے مست ناز
ذوق خبر ہی نے تو ہمیں بے خبر کیا
آپ میں کیا ہے جو مجھے تم سے نشہ آور لگتا ہے؟ محض خبر کے ذائقے سے ہمیں بے خبر کیوں کیا جا رہا ہے؟
9
वो दश्त-ए-ख़ौफ़-नाक रहा है मिरा वतन
सुन कर जिसे ख़िज़्र ने सफ़र से हज़र किया
وہ دشت خوف ناک رہا ہے مرا وطن
سن کر جسے خضر نے سفر سے حذر کیا
میرا وطن ایک خوفناک وادی بن گیا ہے، یہ بات خضر نے اپنے سفر سے سن کر۔
10
कुछ कम नहीं हैं शोबदा-बाज़ों से मय-गुसार
दारू पिला के शैख़ को आदम से ख़र किया
کچھ کم نہیں ہیں شعبدہ بازوں سے میگسار
دارو پلا کے شیخ کو آدم سے خر کیا
شوبدا بازوں میں مے گوسار کم نہیں ہیں؛ انہوں نے شراب پلا کر شیخ کو اپنے خدا سے دور کر دیا۔
11
हैं चारों तरफ़ खे़मे खड़े गर्द-बाद के
क्या जानिए जुनूँ ने इरादा किधर किया
ہیں چاروں طرف خیمے کھڑے گرد باد کے
کیا جانیے جنوں نے ارادہ کدھر کیا
چاروں طرف دھول اور طوفان کے خیمے کھڑے ہیں، کیا جانتا ہے عاشق نے اپنا دل کس طرف کیا ہے۔
12
लुक्नत तिरी ज़बान की है सहर जिस से शोख़
यक हर्फ़-ए-नीम-गुफ़्ता ने दिल पर असर किया
لکنت تری زبان کی ہے سحر جس سے شوخ
یک حرف نیم گفتہ نے دل پر اثر کیا
تیری زبان کی لعنت ہے وہ سحر، جس سے سُوکھے ایک حرفِ نیم-گُفتا نے دل پر اثر کیا۔
13
बे-शर्म महज़ है वो गुनहगार जिन ने 'मीर'
अब्र-ए-करम के सामने दामाँ तर किया
بے شرم محض ہے وہ گنہ گار جن نے میرؔ
ابر کرم کے سامنے داماں تر کیا
بے شرم محض ہے وہ گناہ گار جنہوں نے 'میر' ابرِ کرم کے سامنے دامن تر کیا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
