غزل

झुमके दिखा के तूर को जिन ने जला दिया

झुमके दिखा के तूर को जिन ने जला दिया
میر تقی میر· Ghazal· 12 shers

یہ غزل ایک ایسے رومانوی منظر کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک محبوبہ (یا نرتنی) کی دلکش اداؤں نے عاشقان (جو طور پہاڑ کی علامت ہیں) کو جلا دیا ہے۔ اس میں عشق کے فتنہ اور جدائی کے درد کو بیان کیا گیا ہے، جہاں محبوب کی اداؤں نے وقت اور سکون کو بکھیر دیا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
झुमके दिखा के तूर को जिन ने जला दिया आई क़यामत उन ने जो पर्दा उठा दिया
جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیا آئی قیامت ان نے جو پردہ اٹھا دیا
جھومکے دکھا کے تور کو جن نے جلا دیا، آئی قیامت ان نے جو پردہ اٹھا دیا۔
2
उस फ़ित्ने को जगा के पशेमाँ हुई नसीम क्या क्या 'अज़ीज़ लोगों को उन ने सुला दिया
اس فتنے کو جگا کے پشیماں ہوئی نسیم کیا کیا عزیز لوگوں کو ان نے سلا دیا
نسم نے اس فتنے کو جگا کر پشیمان ہوئی، کہ 'عزیز لوگوں کو ان نے سُلا دیا۔'
3
अब भी दिमाग़-ए-रफ़्ता हमारा है 'अर्श पर गो आसमाँ ने ख़ाक में हम को मिला दिया
اب بھی دماغ رفتہ ہمارا ہے عرش پر گو آسماں نے خاک میں ہم کو ملا دیا
اے عرش! جب آسمان نے ہمیں خاک میں ملا دیا، تب بھی ہمارا ذہن بھٹکنے والا ہے۔
4
जानी न क़द्र उस गुहर शब चराग़ की दिल रेज़ा-ए-ख़ज़फ़ की तरह मैं उठा दिया
جانی نہ قدر اس گہر شب چراغ کی دل ریزۂ خزف کی طرح میں اٹھا دیا
اے دل، میں نے اس جواہر جیسے چراغ کی قدر نہیں کی؛ میں نے اسے ٹوٹی مٹی کی طرح اٹھا دیا۔
5
तक़्सीर जान देने में हम ने कभू न की जब तेग़ वो बुलंद हुई सर झुका दिया
تقصیر جان دینے میں ہم نے کبھو نہ کی جب تیغ وہ بلند ہوئی سر جھکا دیا
نندازی میں جان دینے کا عمل ہم نے کبھی نہیں کیا، جب بھی تلوار بلند ہوئی، ہم نے سر جھکا دیا۔
6
गर्मी चराग़ की सी नहीं वो मिज़ाज में अब दिल फ़सुर्दगी से हूँ जैसे बुझा दिया
گرمی چراغ کی سی نہیں وہ مزاج میں اب دل فسردگی سے ہوں جیسے بجھا دیا
شاعر کہہ رہا ہے کہ اس کا مزاج چراغ کی شمع جیسا نہیں ہے، اور اب دل سستی سے جیسے بجھا دیا گیا ہے۔
7
वो आग हो रहा है ख़ुदा जाने ग़ैर ने मेरी तरफ़ से उस के तईं क्या लगा दिया
وہ آگ ہو رہا ہے خدا جانے غیر نے میری طرف سے اس کے تئیں کیا لگا دیا
وہ آگ ہو رہا ہے ख़ुदा جانے غیر نے، میری طرف سے اس کے تئیں کیا لگا دیا۔ (یعنی: کیا یہ آگ ہے، یہ تو خدا جانے، غیر نے میری طرف سے اس پر کیا لگا دیا ہے۔)
8
इतना कहा था फ़र्श तिरी रह के हम हों काश सो तू ने मार मार के आ कर बिछा दिया
اتنا کہا تھا فرش تری رہ کے ہم ہوں کاش سو تو نے مار مار کے آ کر بچھا دیا
اتنا کہا تھا فرش تیری رہ کے ہم ہوں کاش، سو تو نے مار مار کے آ کر بچھا دیا۔
9
अब घटते घटते जान में ताक़त नहीं रही टक लग चली सबा कि दिया सा बढ़ा दिया
اب گھٹتے گھٹتے جان میں طاقت نہیں رہی ٹک لگ چلی صبا کہ دیا سا بڑھا دیا
جیسے میرا وجود کم ہو رہا ہے اور مجھ میں کوئی طاقت باقی نہیں رہی، صبح کی ہوا ایسے چل گئی جیسے اس نے ایک چراغ کی روشنی بڑھا دی ہو۔
10
तंगी लगा है करने दम अपना भी हर घड़ी कुढ़ने ने दिल के जी को हमारे खपा दिया
تنگی لگا ہے کرنے دم اپنا بھی ہر گھڑی کڑھنے نے دل کے جی کو ہمارے کھپا دیا
ہر لمحہ میں اپنی سانس لینے میں جدوجہد کرتا ہوں، کیونکہ دل کے جوش کو کڑواہٹ نے تھکا دیا ہے۔
11
की चश्म तू ने बाज़ कि खोला दर-ए-सितम किस मुद्दई' ख़ल्क़ ने तुझ को जगा दिया
کی چشم تو نے باز کہ کھولا در ستم کس مدعی خلق نے تجھ کو جگا دیا
تو نے کس طرح سے ظلم کے دروازے پر ایک کھلا زخم کر دیا؟ کس دعوے سے تخلیق نے تجھے جگایا؟
12
क्या क्या ज़ियान 'मीर' ने खींचे हैं 'इश्क़ में दिल हाथ से दिया है जुदा सर जुदा दिया
کیا کیا زیان میرؔ نے کھینچے ہیں عشق میں دل ہاتھ سے دیا ہے جدا سر جدا دیا
کیا کیا زیاں 'میر' نے عشق میں کھینچے ہیں، یہ بات کہوں کے لیے میں نے دل ہاتھ سے دیا اور سر بھی الگ کر دیا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.