اب گھٹتے گھٹتے جان میں طاقت نہیں رہی — میر تقی میر

اب گھٹتے گھٹتے جان میں طاقت نہیں رہی ٹک لگ چلی صبا کہ دیا سا بڑھا دیا

“As my life diminishes, strength is no more within me, The morning breeze blew as if it had added a lamp's light.”

— میر تقی میر

معنی

جیسے میرا وجود کم ہو رہا ہے اور مجھ میں کوئی طاقت باقی نہیں رہی، صبح کی ہوا ایسے چل گئی جیسے اس نے ایک چراغ کی روشنی بڑھا دی ہو۔

تشریح

یہ شعر ایک نہایت نازک تھکن کے احساس کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ جان کی طاقت کم ہو رہی ہے، مگر جب ہلکی سی ہوا چلتی ہے، تو ایسا لگتا ہے جیسے کسی دیے کی شمع اور بڑھ گئی ہو۔ یہ تھکن اور نئی جانفشانی کا ایک حسین تضاد ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.