غزل

यारब कोई हो इश्क़ का बीमार न होवे

यारब कोई हो इश्क़ का बीमार न होवे
میر تقی میر· Ghazal· 12 shers

یہ غزل ایک ایسے عشق کی کیفیت بیان کرتی ہے جو جسمانی اور جذباتی اذیتوں سے پاک ہو۔ اس میں یہ خواہش کا اظہار ہے کہ کسی کو بھی عشق کے عذاب سے کبھی بیمار نہ ہونا پڑے یا مر نہ جانا پڑے۔ یہ شعر کہتا ہے کہ سچا پیار کسی بھی قید یا نقصان کا سبب نہیں بننا چاہیے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
यारब कोई हो इश्क़ का बीमार न होवे मर जाए वले उस को ये आज़ार न होवे
یا رب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے مر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے
اے رب، کوئی ایسا نہ ہو جو عشق کی بیماری سے بیمار ہو، اور نہ ہی ولے کو اس آزار سے موت آئے۔
2
ज़िंदाँ में फँसे तौक़ पड़े क़ैद में मर जाए पर दाम-ए-मोहब्बत में गिरफ़्तार न होवे
زنداں میں پھنسے طوق پڑے قید میں مر جائے پر دام محبت میں گرفتار نہ ہووے
اگر میں قید خانے میں پھنس جاؤں تو قید میں مر جاؤں گا، مگر محبت کی قیمت پر گرفتار نہیں ہو سکتا۔
3
उस वास्ते काँपूँ हूँ कि है आह निपट सर्द ये बाव कलेजे के कहीं पार न होवे
اس واسطے کانپوں ہوں کہ ہے آہ نپٹ سرد یہ باؤ کلیجے کے کہیں پار نہ ہووے
اس واسطے کانپوں ہوں کہ ہے آہ نپٹ سرد، یہ بَو کَلَجے کے کہیں پار نہ ہووے۔
4
सद नाला-ए-जान-काह हैं वाबस्ता चमन से कोई बाल शिकस्ता पस-ए-दीवार न होवे
صد نالۂ جانکاہ ہیں وابستہ چمن سے کوئی بال شکستہ پس دیوار نہ ہووے
میری زندگی کا نالہ باغ سے جڑا ہوا ہے؛ کوئی بال دیوار کے پیچھے نہ کھینچے۔
5
पज़मुर्दा बहुत है गुल-ए-गुलज़ार हमारा शर्मिंदा-ए-यक-गोशा-ए-दस्तार न होवे
پژمردہ بہت ہے گل گلزار ہمارا شرمندۂ یک گوشۂ دستار نہ ہووے
ہمارے گلشن میں بہت سے پسمردے ہیں، اور میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنے دستار کے ایک کونے پر کبھی شرمندہ نہ ہوں۔
6
माँगे है दुआ ख़ल्क़ तुझे देख के ज़ालिम यारब कसो को उस से सरोकार न होवे
مانگے ہے دعا خلق تجھے دیکھ کے ظالم یا رب کسو کو اس سے سروکار نہ ہووے
لوگوں کو تمہیں دیکھ کر دعا مانگنی ہے، اے ظالم؛ یار، کوشش کر کہ ان سے کوئی رشتہ نہ ہو
7
किस शक्ल से अहवाल कहूँ अब मैं इलाही सूरत से मिरी जिस में वो बेज़ार न होवे
کس شکل سے احوال کہوں اب میں الٰہی صورت سے مری جس میں وہ بیزار نہ ہووے
میں خدا سے یہ کیسے کہوں کہ اپنی کس شکل سے اپنی حالت کا بیان کروں، کہ وہ لوگ مجھ سے بیزار نہ ہوں۔
8
हूँ दोस्त जो कहता हूँ सिन ऐ जान के दुश्मन बेहतर तो तुझे तर्क है ता-ख़्वार न होवे
ہوں دوست جو کہتا ہوں سن اے جان کے دشمن بہتر تو تجھے ترک ہے تا خوار نہ ہووے
میں وہ دوست ہوں جو کہتا ہوں، 'اے جان کے دشمن'، بہتر ہے کہ تمہیں وہ منطق ملے جو نہ فنا ہو۔
9
ख़ूबाँ बुरे होते हैं अगरचे हैं नकोरो बे-जुर्म कहीं उन का गुनहगार न होवे
خوباں برے ہوتے ہیں اگرچہ ہیں نکورو بے جرم کہیں ان کا گنہ گار نہ ہووے
وہ بہت بُرے ہوتے ہیں، اگرچہ وہ مجرم نہ ہوں، پھر بھی انہیں کسی چیز کا गुनहगार नहीं होना چاہیے۔
10
बाँधे न फिरे ख़ून पर अपनी तो कमर को ये जान-ए-सुबुक तन पे तिरे बार न होवे
باندھے نہ پھرے خون پر اپنی تو کمر کو یہ جان سبک تن پہ ترے بار نہ ہووے
اگر تم نے اپنے خون سے خود کو نہیں باندھا، تو تمہاری کمر میرے جسم پر نہیں ٹوٹے گی۔
11
चलता है रह-ए-इश्क़ ही उस पर भी चले तू पर एक क़दम चल कहीं ज़िन्हार न होवे
چلتا ہے رہ عشق ہی اس پر بھی چلے تو پر ایک قدم چل کہیں زنہار نہ ہووے
شاعر کہتا ہے کہ عشق کا راستہ اس پر بھی چلتا ہے، تو تم بھی اس پر چل سکتی ہو، مگر ایک قدم کہیں بھی نہ اٹھانا، کہیں تمہارا کوئی ہم سفر نہ مل جائے۔
12
सहरा-ए-मोहब्बत है क़दम देख के रख 'मीर' ये सैर सर-ए-कूचा-ओ-बाज़ार न होवे
صحرائے محبت ہے قدم دیکھ کے رکھ میرؔ یہ سیر سر کوچہ و بازار نہ ہووے
اے میر، محبت کا صحرا ہے، اس لیے گلیوں اور بازاروں میں گھومنا نہ۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.