چلتا ہے رہ عشق ہی اس پر بھی چلے تو — میر تقی میر
“The path of love moves even for him; you may walk on it too, But take one step anywhere, lest you find no companion.”
معنی
شاعر کہتا ہے کہ عشق کا راستہ اس پر بھی چلتا ہے، تو تم بھی اس پر چل سکتی ہو، مگر ایک قدم کہیں بھی نہ اٹھانا، کہیں تمہارا کوئی ہم سفر نہ مل جائے۔
تشریح
Mir Taqi Mir کا کہنا ہے کہ عشق کا راستہ ہر کسی کے لیے کھلا ہے، آپ اس پر چل سکتی ہیں۔ یہ شعر عشق کی عظمت کے ساتھ ساتھ اس کی نازکی پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔ شاعر سمجھاتے ہیں کہ اگرچہ عشق کا راستہ موجود ہے، مگر ایک قدم کی غلطی سے نہ صرف ہمت بلکہ سہارا بھی چھن سکتا ہے۔ یہ صرف محبت کی بات نہیں، بلکہ زندگی کے کسی بھی حساس سفر کی ایک خوبصورت تنبیہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
