ہوں دوست جو کہتا ہوں سن اے جان کے دشمن — میر تقی میر

ہوں دوست جو کہتا ہوں سن اے جان کے دشمن بہتر تو تجھے ترک ہے تا خوار نہ ہووے

“I am the friend who says, 'Oh, life's enemy,' Better for you is the logic that does not perish.”

— میر تقی میر

معنی

میں وہ دوست ہوں جو کہتا ہوں، 'اے جان کے دشمن'، بہتر ہے کہ تمہیں وہ منطق ملے جو نہ فنا ہو۔

تشریح

یہ شعر محبت کے نام پر ایک بہت بڑی وارننگ ہے۔ شاعر اپنے دوست سے کہہ رہے ہیں کہ جو بات وہ کہنے والے ہیں، وہ روح کے لیے خطرناک ہے۔ اس لیے وہ مشورے دیتے ہیں کہ بس عقل و خرد پر قائم رہنا، کیونکہ سچائی کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.