یا رب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے — میر تقی میر
یا رب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے
مر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے
“Oh God, let there be no one who falls ill with love, And let no one die from this affliction.”
— میر تقی میر
معنی
اے رب، کوئی ایسا نہ ہو جو عشق کی بیماری سے بیمار ہو، اور نہ ہی ولے کو اس آزار سے موت آئے۔
تشریح
یہ شعر ایک رقت بھری دعا ہے۔ شاعر، میر تقی میر، رب سے التجا کر رہے ہیں کہ ایسا پیار نصیب ہو جو بیماری نہ دے اور نہ ہی جدائی کا اذیت ہو۔ یہ عشق کے دکھ کو بھی سہل کرنے کی ایک گہری تمنا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
1 / 12Next →
