Sukhan AI
غزل

सुना है हाल तिरे कुश्तगाँ बेचारों का

सुना है हाल तिरे कुश्तगाँ बेचारों का
میر تقی میر· Ghazal· 13 shers

یہ غزل ایک دردناک اور گہرا سماجی و سیاسی تبصرہ ہے، جو 'عالم' کی طرف سے معاشرے کے پسماندہ اور مظلوم طبقے کی حالتِ کار کا بیان کرتی ہے۔ اس میں شاعر نے فراق، جدوجہد، اور زندگی کی عدم استحکام کے پس منظر میں، انسانی وجود کی دکھ بھری حقیقت اور سماجی ناانصافی کے درد کو نہایت ہی جذباتی انداز سے پیش کیا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
सुना है हाल तिरे कुश्तगाँ बेचारों का हुआ गोर गढ़ा उन सितम के मारों का
شاعر کہتا ہے کہ اُس نے تمہارے بے بس رشتہ داروں کی حالت سنی ہے، جو تمہاری ظلم کی ماروں سے نہیں بچ سکے۔
2
हज़ार रंग खिले गुल चमन के हैं शाहिद कि रोज़गार के सर ख़ून है हज़ारों का
شاعر کہتا ہے کہ گلشن میں ہزار رنگ کھلے ہیں، دوست، مگر روزگار کے سر پر ہزاروں کا خون ہے۔
3
मिला है ख़ाक में किस किस तरह का 'आलम याँ निकल के शहर से टक सैर कर मज़ारों का
اے محبوب، شہر اور قبروں میں گھوم کر، خاک میں کس طرح کا 'عالم' مل گیا ہے؟
4
'अरक़-फ़िशानी से उस ज़ुल्फ़ की हिरासाँ हूँ भला नहीं है बहुत टूटना भी तारों का
میں نشے سے اس زلف کی ہرداستان ہوں؛ اے کاش ستاروں کا بہت ٹوٹنا بھی اچھا نہیں ہے۔
5
'इलाज करते हैं सौदा-ए-इश्क़ का मेरे ख़लल-पज़ीर हुआ है दिमाग़ यारों का
میرے دوستو، عشق کے سودے کا علاج ایسا ہے کہ میرے دماغ میں خرابی آ گئی ہے۔
6
तिरी ही ज़ुल्फ़ को महशर में हम दिखा देंगे जो कोई माँगेगा नामा सियाहकारों का
ہم تمہاری زُلف کو محشر میں دکھا دیں گے، جو کوئی بھی سیاہ بالوں والوں کا نام مانگے گا۔
7
ख़राश-ए-सीना-ए-आशिक़ भी दिल को लग जाए 'अजब तरह का है फ़िरक़ा ये दिल-फ़िगारों का
آشیق کے سینے کی خراش بھی دل کو لگ جائے، عجب طرح کا ہے فراق یہ دل فگاروں کا۔
8
निगाह-ए-मस्त के मारे तिरी ख़राब हैं शोख़ ठोर है ठिकाना है होशियारों का
مستی بھرے نگاہوں کے مارے اے محبوب، تیری خوبصورتی بے قرار ہے؛ ہوشیاروں کے لیے نہ ٹھکانہ ہے اور نہ کوئی ٹھکا۔
9
करें हैं दा'वा ख़ुश-चश्मी-ए-आहुवान-ए-दश्त टक एक देखने चल मलक उन गँवारों का
شاعر کہتے ہیں کہ تم میدان جنگ کی خوبصورت آنکھیں ہو، مگر میں تمہیں ان کھردری پہاڑیوں کو دیکھنے کے لیے کہہ رہا ہوں، اے شہزادے۔
10
तड़प के मरने से दिल के कि मग़्फ़िरत हो उसे जहाँ में कुछ तो रहा नाम बे-क़रारों का
تڑپ کے مرنے کو دل کی معافی سمجھو، جہاں میں تو بے قریروں کا نام کچھ کچھ باقی ہے۔
11
तड़प के ख़िर्मन-ए-गुल पर कभी गिर बिजली जलाना क्या है मिरे आशियाँ के ख़ारों का
اے بجلی، تو کبھی تڑپ کے گل کے جام پر کیوں گری؟ میرے آشیان کے کانٹوں میں جلانا کیا ہے؟
12
तुम्हें तो ज़ोहद-ओ-वरा पर बहुत है अपने ग़ुरूर ख़ुदा है शैख़-जी हम भी गुनाहगारों का
آپ کو زہد و ورا پر بہت غرور ہے۔ خدا جانتا ہے، شیخ جی، ہم بھی گناہگار ہیں۔
13
उठे है गर्द की जा नाला गोर से इस की ग़ुबार-ए-'मीर' भी 'आशिक़ है ने सवारों का
اُٹھے ہے گرد کی جا نالا گُور سے اس کی گُبار-ए-'میر' بھی 'عاشق' ہے نے سواروں کا
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

सुना है हाल तिरे कुश्तगाँ बेचारों का | Sukhan AI