तड़प के ख़िर्मन-ए-गुल पर कभी गिर ऐ बिजली
जलाना क्या है मिरे आशियाँ के ख़ारों का
“Oh lightning, why did you ever fall upon the cup of my suffering? What is it that you burn within the thorns of my heart?”
— میر تقی میر
معنی
اے بجلی، تو کبھی تڑپ کے گل کے جام پر کیوں گری؟ میرے آشیان کے کانٹوں میں جلانا کیا ہے؟
تشریح
یہ شعر محبوب اور عاشق کے درمیان ایک گہرا مکالمہ ہے۔ शायर محبوب کو 'بجلی' کہہ کر مخاطب کرتے ہیں کہ وہ پھول کے نازک جام پر کبھی نہ گِریں۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے آشیانہ کے کانٹوں کو جلا دینا کیا ہے—یہ تو بہت معمولی بات ہے۔
