'अरक़-फ़िशानी से उस ज़ुल्फ़ की हिरासाँ हूँ
भला नहीं है बहुत टूटना भी तारों का
“I am the guardian of those tresses, from the splendor of the liquor; alas, it is not right for the stars to break too much.”
— میر تقی میر
معنی
میں نشے سے اس زلف کی ہرداستان ہوں؛ اے کاش ستاروں کا بہت ٹوٹنا بھی اچھا نہیں ہے۔
تشریح
یہ شعر ایک گہرے، تقریباً مقدس نگہبانی کا بیان ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ وہ محبوب کی زلفوں کے محافظ ہیں، انہیں شراب کے داغ سے بھی بچاتے ہیں۔ لیکن اصل بات تو دوسری لائن میں ہے: 'بھلا نہیں ہے بہت ٹوٹنا بھی تاروں کا۔' یہ کائنات کی بے مثال خوبصورتی کا اعتراف ہے۔
