غزل
दर्द-ओ-अंदोह में ठहरा जो रहा मैं ही हूँ
दर्द-ओ-अंदोह में ठहरा जो रहा मैं ही हूँ
یہ غزل شاعر کے گہرے جذباتی اور نفسیاتی جدوجہد کو بیان کرتی ہے۔ شاعر خود کو درد، غم اور وفاداری کے ایک پیچیدہ امتزاج کے طور پر پیش کرتا ہے، جو نہ صرف دوسروں کے لیے سہارا ہے بلکہ خود بھی ایک دردناک وجود ہے۔ اس میں یہ جذبہ ہے کہ شاعر نے اپنی زندگی میں کئی طرح کی مشکلات اور جذباتی بوجھ خود پر لیے ہوئے ہیں۔
نغمہ سنیں
1
दर्द-ओ-अंदोह में ठहरा जो रहा मैं ही हूँ
रंग-रू जिस के कभू मुँह न चढ़ा मैं ही हूँ
درد و اندوہ میں ٹھہرا جو رہا میں ہی ہوں
رنگ رو جس کے کبھو منہ نہ چڑھا میں ہی ہوں
درد و اندوہ میں ٹھہرا جو رہا میں ہی ہوں، رنگ رو جس کے کبھی منہ نہ چڑھا میں ہی ہوں۔
2
जिस पे करते हो सदा जौर-ओ-जफ़ा मैं ही हूँ
फिर भी जिस को है गुमाँ तुम से वफ़ा में ही हूँ
جس پہ کرتے ہو سدا جور و جفا میں ہی ہوں
پھر بھی جس کو ہے گماں تم سے وفا میں ہی ہوں
وہ جس پر تم ہمیشہ سختی اور ظلم کرتے ہو، میں ہی ہوں؛ پھر بھی وہ جسے تم وفاداری سمجھتے ہو، میں بھی وہ ہوں۔
3
बद कहा मैं ने रक़ीबों को तो तक़्सीर हुई
क्यूँ है बख़्शो भी भला सब में बुरा मैं ही हूँ
بد کہا میں نے رقیبوں کو تو تقصیر ہوئی
کیوں ہے بخشو بھی بھلا سب میں برا میں ہی ہوں
میں نے رقیبوں کو کیا برا کہا کہ مجھے تنقید ہوئی۔ پھر بھی، سب میں بھلا کیا جاتا ہے، تو برا میں ہی ہوں۔
4
अपने कूचे में फ़ुग़ाँ जिस की सुनो हो हर रात
वो जिगर-ए-सोख़्ता ओ सीना-जला मैं ही हूँ
اپنے کوچے میں فغاں جس کی سنو ہو ہر رات
وہ جگر سوختہ و سینہ جلا میں ہی ہوں
جس کے اپنے گلی میں فغاں جس کی ہر رات سنی ہو، وہ جگرِ سوکھتا اور سینہ جلتا میں ہی ہوں۔
5
ख़ार को जिन ने लड़ी मोती की कर दिखलाया
उस बयाबान में वो आबला-पा मैं ही हूँ
خار کو جن نے لڑی موتی کی کر دکھلایا
اس بیابان میں وہ آبلہ پا میں ہی ہوں
جس نے کانٹوں کو موتی کی مالا سے سجایا، اس بیابان میں میں ہی کھویا ہوا ہوں۔
6
लुत्फ़ आने का है क्या बस नहीं अब ताब-ए-जफ़ा
इतना आलम है भरा जाओ न क्या मैं ही हूँ
لطف آنے کا ہے کیا بس نہیں اب تاب جفا
اتنا عالم ہے بھرا جاؤ نہ کیا میں ہی ہوں
کوئی لطف آنے کا ہے کیا؟ اب صبرِ جفا نہیں رہا۔ یہ جہاں پہلے سے ہی بھر چکا ہے، مزید بوجھ سے نہ بھرو۔
7
रुक के जी एक जहाँ दूसरे आलम को गया
तन-ए-तन्हा न तिरे ग़म में हुआ मैं ही हूँ
رک کے جی ایک جہاں دوسرے عالم کو گیا
تن تنہا نہ ترے غم میں ہوا میں ہی ہوں
رُک کر جی ایک جہاں دوسرے عالم کو گیا، مگر تیرے غم میں میرا تنِ تنہا ہی رہا۔
8
इस अदा को तो टक इक सैर कर इंसाफ़ करो
वो बुरा हैगा भला दोस्तो या मैं ही हूँ
اس ادا کو تو ٹک اک سیر کر انصاف کرو
وہ برا ہے گا بھلا دوستو یا میں ہی ہوں
اس انداز کو دیکھ کر انصاف کرو، دوستو، کہ کیا برا ہے تم میں یا میں۔
9
मैं ये कहता था कि दिल जन ने लिया कौन है वो
यक-ब-यक बोल उठा उस तरफ़ आ मैं ही हूँ
میں یہ کہتا تھا کہ دل جن نے لیا کون ہے وہ
یک بیک بول اٹھا اس طرف آ میں ہی ہوں
میں یہ کہتا تھا کہ دل کس نے لے لیا ہے، وہ کون ہے؛ اچانک، وہ بول اٹھا، 'اس طرف آ، میں خود ہوں'۔
10
जब कहा मैं ने कि तू ही है तो फिर कहने लगा
क्या करेगा तू मिरा देखूँ तो जा मैं ही हूँ
جب کہا میں نے کہ تو ہی ہے تو پھر کہنے لگا
کیا کرے گا تو مرا دیکھوں تو جا میں ہی ہوں
جب میں نے کہا کہ تو ہی ہے، تو پھر کہنے لگا کہ کیا کرے گی تو؟ اگر تو مجھے دیکھے گی، تو میں ہی ہوں۔
11
सुनते ही हंस के टक इक सोचियो क्या तू ही था
जिन ने शब रो के सब अहवाल कहा मैं ही हूँ
سنتے ہی ہنس کے ٹک اک سوچیو کیا تو ہی تھا
جن نے شب رو کے سب احوال کہا میں ہی ہوں
سنتے ہی हंस نے سوچا، 'کیا تو ہی تھا جس نے کل کے سارے احوال کہے؟ میں تو خود ہوں'
12
'मीर' आवारा-ए-आलम जो सुना है तू ने
ख़ाक-आलूदा वो ऐ बाद-ए-सबा मैं ही हूँ
میرؔ آوارۂ عالم جو سنا ہے تو نے
خاک آلودہ وہ اے باد صبا میں ہی ہوں
شاعر (میر) کہہ رہے ہیں کہ جو آپ نے عالم کا آوارہ پن سنا ہے، میں خود وہ دھول آلودہ ہوں، صبح کی ہوا میں۔
13
कासा-ए-सर को लिए माँगता दीदार फिरे
'मीर' वो जान से बेज़ार गदा मैं ही हूँ
کاسۂ سر کو لیے مانگتا دیدار پھرے
میرؔ وہ جان سے بیزار گدا میں ہی ہوں
کسا-ئے سر کو لیے مانگتا دیدار فِرے، 'میر'، وہ جان سے بیزار گدا میں ہی ہوں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
