لطف آنے کا ہے کیا بس نہیں اب تاب جفا — میر تقی میر
لطف آنے کا ہے کیا بس نہیں اب تاب جفا
اتنا عالم ہے بھرا جاؤ نہ کیا میں ہی ہوں
“What is the favor that is coming? I have no more patience for this cruelty. This world is already full, so do not fill me up (with more burden/feeling).”
— میر تقی میر
معنی
کوئی لطف آنے کا ہے کیا؟ اب صبرِ جفا نہیں رہا۔ یہ جہاں پہلے سے ہی بھر چکا ہے، مزید بوجھ سے نہ بھرو۔
تشریح
یہ شعر دل کی تھکاوٹ اور صبر کے ٹوٹنے کا اظہار ہے۔ شاعر محبوب سے کہہ رہے ہیں کہ اب مزید جفا برداشت نہیں ہوتی۔ یہ ایک بے بسی کی پکار ہے، کہ یہ دنیا پہلے ہی بہت زیادہ ہے، اور میں تو یہاں موجود ہوں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
