بد کہا میں نے رقیبوں کو تو تقصیر ہوئی — میر تقی میر

بد کہا میں نے رقیبوں کو تو تقصیر ہوئی کیوں ہے بخشو بھی بھلا سب میں برا میں ہی ہوں

“How did I speak to my rivals, criticizing them? / Why am I the one who speaks ill of all, even when given favors?”

— میر تقی میر

معنی

میں نے رقیبوں کو کیا برا کہا کہ مجھے تنقید ہوئی۔ پھر بھی، سب میں بھلا کیا جاتا ہے، تو برا میں ہی ہوں۔

تشریح

یہ شعر انسان کے دکھ سکھ، اور نیتوں کے غلط فہمی کا بیان ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ چاہے ہم دوسروں کو برا کہیں، یا سب کے لیے بھلائی کریں، ہمیں ہمیشہ اچھے سے زیادہ برا ہی سمجھا جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.