Sukhan AI
غزل

हम से कुछ आगे ज़माने में हुआ क्या क्या कुछ

हम से कुछ आगे ज़माने में हुआ क्या क्या कुछ
میر تقی میر· Ghazal· 14 shers

یہ غزل زندگی کے تجربات اور وقت کے گزرنے پر ایک غور و فکر پر مبنی نکتہ نظر پیش کرتی ہے۔ شاعر یہ سوال کرتا ہے کہ کیا زمانے میں کچھ ایسا ہوا ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوا، اور کیا ہم اس تبدیلی سے بے خبر ہیں۔ غزل بتاتی ہے کہ محبت اور غم کے اثر سے دل، جگر اور جان سب کچھ بدل گیا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
2
दिल जिगर जान ये भसमनत हुए सीने में घर को आतिश दी मोहब्बत ने जला क्या क्या कुछ
میرے سینے میں دل، جگر اور جان بھسمنت ہوئے ہیں؛ मोहब्बत نے گھر کو آگ لگا دی، کیا کیا کچھ جلا دیا۔
3
क्या कहूँ तुझ से कि क्या देखा है तुझ में मैं ने इशवा-ओ-ग़मज़ा-ओ-अंदाज़-ओ-अदा क्या क्या कुछ
میں تجھ سے کیا کہوں کہ میں نے تجھ میں کیا کیا دیکھا ہے؛ اِشوا، اور غم، اور انداز، اور ادا—کیا کیا چیزیں۔
4
दिल गया होश गया सब्र गया जी भी गया शग़्ल में ग़म के तिरे हम से गया क्या क्या कुछ
میرا دل، ہوش، صبر اور جان سب کچھ کھو گیا ہے؛ تمہارے غم کے جادو میں تم نے مجھ سے کیا کیا کچھ لے لیا؟
8
हसरत-ए-वसल-ओ-ग़म-ए-हिजर-ओ-ख़्याल-ए-रुख़-ए-दोस्त मर गया मैं पे मिरे जी में रहा क्या क्या कुछ
میرے جی میں کیا کیا ہوا، میں مر گیا۔ (یہ مصرع محبت کی یادوں اور جذبات کے شدید تجربے کو ظاہر کرتا ہے۔)
11
तुझ को क्या बनने बिगड़ने से ज़माने के कि याँ ख़ाक किन किन की हुई सिर्फ़ बना क्या क्या कुछ
زमाने की नज़रों में बनने یا بگڑنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ یہ تو صرف خاک ہے کہ کیا کیا بنا اور کیا کیا بگڑ گیا۔
14
एक महरूम चले 'मीर' हमें 'आलम से वर्ना 'आलम को ज़माने ने दिया क्या क्या कुछ
ایک محروم چلا 'میر' ہمیں 'عالم' سے، ورنہ 'عالم' کو زمانے نے دیا کیا کیا کچھ
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.