غزل

ہر چہ بادا باد کشتی در آب انداختم

ہر چہ بادا باد کشتی در آب انداختم

یہ غزل انجام کی پروا کیے بغیر عشق میں جرأتِ اظہار اور خودسپردگی کی عکاسی کرتی ہے۔ اس میں دل کا مدعا بیان کرنے کے بعد ملنے والی تلخیوں، جنون کی ضد اور زخموں کے کرب کو نہایت پُراثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

Source: Kashkol-e-Majzoob · UR

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
ہر چہ بادا باد کشتی در آب انداختم کر کے جرات ان سے آج اظہارِ ارمان کر لیا
اب جو کچھ بھی ہو سو ہو، میں نے اپنی کشتی پانی میں اتار دی ہے؛ آج ہمت کر کے میں نے ان سے اپنی دلی تمنا کا اظہار کر دیا ہے۔
2
تلخ کر دی زندگی شورش تری کچھ ضد بھی ہے اُف رے ہرزخم کو تو نے نمکداں کر دیا
تمہارے ہنگامے اور کچھ تمہاری ضد نے زندگی کو تلخ بنا دیا ہے۔ ہائے افسوس کہ تم نے میرے ہر زخم کو نمک دان بنا دیا ہے۔
3
زلف و رخ کو ڈھانپتے یہ بھی کوئی انداز ہے اس کو حیراں کر دیا اُس کو پریشاں کر دیا
اپنی زلف اور چہرے کو چھپانا بھی بھلا کوئی انداز ہے؟ آپ نے ایک کو حیران کر دیا اور دوسرے کو پریشان کر دیا۔
4
پھونک دی اک روحِ نو مجھ میں مری ہر آہ نے دردِ دل نے میری رگ رگ کو رگِ جاں کر دیا
میری ہر آہ نے مجھ میں ایک نئی روح پھونک دی ہے، اور دل کے درد نے میری ہر رگ کو رگِ جاں بنا دیا ہے۔
5
تو نظر آنے لگا، کی اس قدر گہری نگاہ میں نے جس ذرہ کو دیکھا چاہِ کنعاں کر دیا
میری نگاہ اس قدر گہری ہو گئی کہ تو نظر آنے لگا؛ میں نے جس ذرے کو بھی دیکھا، اسے چاہِ کنعان بنا دیا۔
6
ٹوٹ جاتے کیوں نہ ٹانکے زخم کے دیکھا غضب شاملِ بخیہ مرا تارِ گریباں کر دیا
زخم کے ٹانکے بھلا کیوں نہ ٹوٹتے، ذرا یہ ستم تو دیکھو کہ زخم سینے کے لیے میرے ہی گریبان کا دھاگا استعمال کر دیا گیا۔
7
جوشِ وحشت کی مرے دیکھو عجائب کاریاں دشت کو ذرہ تو ذرہ کو بیاباں کر دیا
میرے جنون اور وحشت کے جوش کے عجیب کرشمے دیکھو کہ اس نے پورے صحرا کو ایک ذرہ بنا دیا اور ایک ادنیٰ ذرے کو وسیع و عریض بیابان میں بدل دیا۔
8
میرے چارہ گر کا دیکھے تو کوئی حُسنِ علاج محوِ دل سے امتیازِ درد و درماں کر دیا
کوئی میرے معالج کے علاج کا حسن دیکھے، جس نے میرے دل سے درد اور دوا کا فرق ہی مٹا دیا ہے۔
9
چپکے چپکے اندر اندر تو نے اے شوقِ نہاں دل کو میرے راز دارِ حُسنِ پنہاں کر دیا
اے میرے چھپے ہوئے شوق، تو نے چپکے چپکے اندر ہی اندر میرے دل کو پوشیدہ حسن کا رازدار بنا دیا ہے۔
10
جن کی استادی پہ خود حکمت بجا کرتی تھی ناز ایک اُمّی نے انہیں طفلِ دبستاں کر دیا
جن کی مہارت اور دانائی پر خود عقل و حکمت فخر کیا کرتی تھی، ایک اُمّی نے انہیں مدرسے کا ابتدائی طالب علم بنا دیا۔
11
میں ہوں رندِ پاک باطن دامنِ تر کو نہ دیکھ دخترِ رز کو بھی میں نے پاک داماں کر دیا
میرے شراب سے بھیگے دامن کو مت دیکھو کیونکہ میرا باطن پاکیزہ ہے۔ میں نے تو شراب (دخترِ رز) کو بھی پاک دامن بنا دیا ہے۔
12
مجھ کو سوجھا بھی تو کیا مجذوبؔ وحشت کا علاج میں نے دل وابستۂ زلفِ پریشاں کر دیا
اے مجذوب! مجھے اپنی وحشت کا بھی کیا علاج سوجھا کہ میں نے اپنے دل کو محبوب کی بکھری ہوئی زلفوں سے باندھ دیا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.