“Your turmoil has embittered life, spurred by stubborn art; alas, you have turned every wound into a shaker of salt!”
تمہارے ہنگامے اور کچھ تمہاری ضد نے زندگی کو تلخ بنا دیا ہے۔ ہائے افسوس کہ تم نے میرے ہر زخم کو نمک دان بنا دیا ہے۔
شاعر اپنے اندر کے اضطراب، بے چینی اور ضدی طبیعت سے شکوہ کر رہا ہے جس نے زندگی کے ہر لطف کو کڑواہٹ میں بدل دیا ہے۔ یہاں کتنا دردناک اور انوکھا استعارہ ہے کہ زخموں پر نمک چھڑکنے کے بجائے خود ہر زخم ہی نمکدان بن گیا ہے، جو ہر پل اپنی جلن میں اضافہ کر رہا ہے۔ یہ انسان کی اس اندرونی کیفیت کا المیہ ہے جہاں اس کا اپنا ہی بے قابو شور اور ضد اس کے دکھوں کو کبھی مندمل نہیں ہونے دیتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
