پھونک دی اک روحِ نو مجھ میں مری ہر آہ نے دردِ دل نے میری رگ رگ کو رگِ جاں کر دیا

“Every sigh of mine has breathed into me a brand-new soul; the heartache transformed my every vein into the vein of life.”

— خواجہ عزیز الحسن مجذوب
معنی

میری ہر آہ نے مجھ میں ایک نئی روح پھونک دی ہے، اور دل کے درد نے میری ہر رگ کو رگِ جاں بنا دیا ہے۔

تشریح

عام طور پر آہ کو درد اور کمزوری کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر اس شعر میں شاعر نے رنج و الم کو حیاتِ نو کا وسیلہ بنا دیا ہے۔ ان کی ہر آہ جیسے کوئی دمِ عیسیٰ بن کر ان میں نئی روح پھونک گئی ہے، اور دل کی کسک نے جسم کی ہر عام رگ کو 'رگِ جاں' کی طرح حساس اور بیدار کر دیا ہے۔ یہ شعر بتاتا ہے کہ سچی محبت کا غم انسان کو توڑتا نہیں، بلکہ اسے باطنی طور پر زیادہ گہرا اور زندہ تر کر دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.