“What a cure occurred to me, seized by frenzy and despair: I bound my captive heart fast to her disheveled hair.”
اے مجذوب! مجھے اپنی وحشت کا بھی کیا علاج سوجھا کہ میں نے اپنے دل کو محبوب کی بکھری ہوئی زلفوں سے باندھ دیا۔
اس شعر میں مجذوبؔ نے بڑے لطیف اور طنز آمیز انداز میں اپنی وحشت کا انوکھا علاج بیان کیا ہے۔ دل کی بے چینی اور اضطراب کو دور کرنے کے لیے انہوں نے دل کو محبوب کی بکھری ہوئی زلفوں سے وابستہ کر دیا۔ 'زلفِ پریشاں' حسن کی کشش کے ساتھ ساتھ خود ایک انتشار کی علامت ہے، گویا وحشت کے علاج کے لیے عاشق نے اپنے دل کو ایک اور خوبصورت دیوانگی کے حوالے کر دیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
