“Why would the stitches of the wound not snap? Behold what calamity befell: Into the seam that closed the wound, they wove the thread of my torn collar.”
زخم کے ٹانکے بھلا کیوں نہ ٹوٹتے، ذرا یہ ستم تو دیکھو کہ زخم سینے کے لیے میرے ہی گریبان کا دھاگا استعمال کر دیا گیا۔
اردو شاعری میں جنونِ عشق کی حالت میں گریبان چاک کرنا دیوانگی کا خاص استعارہ ہے۔ شاعر یہاں کمال نزاکت سے کہتا ہے کہ ستم ظریفی دیکھیے، چارہ گر نے زخم سینے کے لیے اسی پھٹے ہوئے گریبان کا دھاگا استعمال کر لیا۔ اب جونہی عاشق جنون میں دوبارہ اپنا گریبان کھینچے گا تو زخم کے ٹانکے پھر سے ٹوٹ جائیں گے، گویا محبت کے علاج نے ہی اس کے زخموں کے ہمیشہ ہرے رہنے کا بندوبست کر دیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
