“Come what may, into the waters I have launched my boat; gathering my courage today, I laid bare every longing of my heart.”
اب جو کچھ بھی ہو سو ہو، میں نے اپنی کشتی پانی میں اتار دی ہے؛ آج ہمت کر کے میں نے ان سے اپنی دلی تمنا کا اظہار کر دیا ہے۔
اس شعر میں محبت کا اظہار کرنے کے اس نازک اور دلیرانہ لمحے کو دکھایا گیا ہے جہاں انسان ہر خوف سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ فارسی کے مشہور مصرعے کے ذریعے شاعر واضح کرتا ہے کہ 'اب جو بھی ہو دیکھا جائے گا'، اس نے تمام اندیشوں کو بالائے طاق رکھ کر اپنی ناؤ طوفانی سمندر میں اتار دی ہے۔ یہ محبوب کے سامنے اپنے دل کے ارمان کھول دینے کی وہ خوبصورت جرات ہے، جس میں انجام کے ڈر پر جذبات کی سچائی حاوی ہو جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
