ہر چہ بادا باد کشتی در آب انداختم کر کے جرات ان سے آج اظہارِ ارمان کر لیا

“Come what may, into the waters I have launched my boat; gathering my courage today, I laid bare every longing of my heart.”

— خواجہ عزیز الحسن مجذوب
معنی

اب جو کچھ بھی ہو سو ہو، میں نے اپنی کشتی پانی میں اتار دی ہے؛ آج ہمت کر کے میں نے ان سے اپنی دلی تمنا کا اظہار کر دیا ہے۔

تشریح

اس شعر میں محبت کا اظہار کرنے کے اس نازک اور دلیرانہ لمحے کو دکھایا گیا ہے جہاں انسان ہر خوف سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ فارسی کے مشہور مصرعے کے ذریعے شاعر واضح کرتا ہے کہ 'اب جو بھی ہو دیکھا جائے گا'، اس نے تمام اندیشوں کو بالائے طاق رکھ کر اپنی ناؤ طوفانی سمندر میں اتار دی ہے۔ یہ محبوب کے سامنے اپنے دل کے ارمان کھول دینے کی وہ خوبصورت جرات ہے، جس میں انجام کے ڈر پر جذبات کی سچائی حاوی ہو جاتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 12Next →