“My gaze grew so profound that You began to appear in sight; whichever speck of dust I beheld, I turned into Canaan's well.”
میری نگاہ اس قدر گہری ہو گئی کہ تو نظر آنے لگا؛ میں نے جس ذرے کو بھی دیکھا، اسے چاہِ کنعان بنا دیا۔
اس شعر میں شاعر بصیرت اور عشق کی اس گہرائی کا ذکر کر رہا ہے جہاں کائنات کے ہر ذرے میں محبوب کا جلوہ نظر آنے لگتا ہے۔ 'چاہِ کنعاں' سے مراد وہ کنواں ہے جس میں حضرت یوسفؑ کو اتارا گیا تھا، یعنی تاریکی کی تہہ میں چھپا بے مثال حسن۔ شاعر کہتا ہے کہ جب میری نگاہ میں اتنی گہرائی پیدا ہو گئی تو خاک کا ایک ادنیٰ سا ذرہ بھی اسی کنوئیں کی مانند بن گیا، جس کے باطن سے صرف محبوب کا نور چھلک رہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
