“Those upon whose mastery wisdom itself took rightful pride, were turned to mere schoolroom novices by an unlettered guide.”
جن کی مہارت اور دانائی پر خود عقل و حکمت فخر کیا کرتی تھی، ایک اُمّی نے انہیں مدرسے کا ابتدائی طالب علم بنا دیا۔
یہ شعر دنیوی علم اور الٰہی دانائی کے فرق کو بڑے دلکش انداز میں بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جن عظیم فلسفیوں اور دانشوروں کی عقل پر خود حکمت و دانش فخر کرتی تھی، وہ حضورؐ کی بارگاہ میں آ کر مکتب کے چھوٹے بچوں کی طرح مبتدی دکھائی دیے۔ یہاں لفظ 'اُمّی' اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جب خدا کی عطا کردہ بصیرت جلوہ گر ہوتی ہے، تو انسان کا تمام فلسفہ اور فکری غرور اس کے سامنے ہیچ ثابت ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
