“If only someone could behold the exquisite grace of my healer’s cure: / From my heart, it erased all difference between the pain and the balm.”
کوئی میرے معالج کے علاج کا حسن دیکھے، جس نے میرے دل سے درد اور دوا کا فرق ہی مٹا دیا ہے۔
شاعر یہاں اپنے محبوب یعنی اپنے چارہ گر کے اندازِ علاج پر والہانہ داد دے رہا ہے۔ عام طور پر دوا سے درد ختم ہوتا ہے، مگر محبوب کا کمال یہ ہے کہ اس نے دل سے تڑپ اور تسکین کا فرق ہی مٹا دیا ہے۔ عشق کے اس نازک مقام پر پہنچ کر زخم کی چبھن ہی راحت بن جاتی ہے، اور عاشق کے لیے درد خود اپنا درماں بن کر سامنے آتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
