زلف و رخ کو ڈھانپتے یہ بھی کوئی انداز ہے اس کو حیراں کر دیا اُس کو پریشاں کر دیا

“Veiling your tresses and your face—what strange coquetry is this? One you have left bewildered, the other cast into distress.”

— خواجہ عزیز الحسن مجذوب
معنی

اپنی زلف اور چہرے کو چھپانا بھی بھلا کوئی انداز ہے؟ آپ نے ایک کو حیران کر دیا اور دوسرے کو پریشان کر دیا۔

تشریح

اس شوخ اور دلکش شعر میں عاشق اپنے محبوب کی شرمیلی ادا اور نخرے پر بڑے پیار سے شکوہ کر رہا ہے۔ محبوب نے اپنے چہرے اور زلفوں دونوں کو پردے میں چھپا کر دیکھنے والے کو عجیب شش و پنج میں ڈال دیا ہے—روشن چہرے کو اوجھل کر کے اسے حیرت میں مبتلا کر دیا، اور گھنی زلفوں کو چھپا کر دل کو پریشان و مضطرب کر دیا (لفظ 'پریشاں' کا ایک خوبصورت ربط زلفوں کے بکھراؤ سے بھی ہے)۔ یہ شعر محبوب کی اک ذرا سی چھیڑ چھاڑ سے عاشق کے دل میں برپا ہونے والے تلاطم کو بڑی خوبصورتی سے سمیٹتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.