غزل

آیا نہ راس نالۂ دل کا اثر مجھے

آیا نہ راس نالۂ دل کا اثر مجھے
جگر مرادآبادی· Ghazal· 13 shers· radif: मुझे

یہ غزل عشق کی بے خودی، محبوب کے وصل کی کیفیت اور اس کے نتیجے میں ملنے والے دائمی درد کی عکاسی کرتی ہے۔ اس میں عاشق دل دے کر جگر کے داغ پانے کے صدمے اور حسرت کو انتہائی رقت آمیز انداز میں بیان کرتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
आया न रास नाला-ए-दिल का असर मुझे अब तुम मिले तो कुछ नहीं अपनी ख़बर मुझे
آیا نہ راس نالۂ دل کا اثر مجھے اب تم ملے تو کچھ نہیں اپنی خبر مجھے
میرے دل کی فریاد کا اثر مجھے راس نہیں آیا، اور اب جب تم ملے ہو تو مجھے اپنی ہی کوئی خبر نہیں رہی۔
2
दिल ले के मुझ से देते हो दाग़-ए-जिगर मुझे ये बात भूलने की नहीं उम्र भर मुझे
دل لے کے مجھ سے دیتے ہو داغ جگر مجھے یہ بات بھولنے کی نہیں عمر بھر مجھے
تم مجھ سے میرا دل لے کر بدلے میں مجھے جگر کا داغ دیتے ہو، یہ بات میں عمر بھر نہیں بھول سکتا۔
3
हर-सू दिखाई देते हैं वो जल्वा-गर मुझे क्या क्या फ़रेब देती है मेरी नज़र मुझे
ہر سو دکھائی دیتے ہیں وہ جلوہ گر مجھے کیا کیا فریب دیتی ہے میری نظر مجھے
مجھے ہر سمت وہی جلوہ گر دکھائی دیتے ہیں، میری اپنی نظر مجھے کیسے کیسے فریب دے رہی ہے۔
4
मिलती नहीं है लज़्ज़त-ए-दर्द-ए-जिगर मुझे भूली हुई न हो निगह-ए-फ़ित्नागर मुझे
ملتی نہیں ہے لذت درد جگر مجھے بھولی ہوئی نہ ہو نگہ فتنہ گر مجھے
مجھے اب دل کے درد کا لطف نہیں مل رہا ہے؛ کہیں ایسا تو نہیں کہ محبوب کی فتنہ پرداز نگاہ مجھے بھول گئی ہو۔
5
डाला है बे-ख़ुदी ने अजब राह पर मुझे आँखें हैं और कुछ नहीं आता नज़र मुझे
ڈالا ہے بے خودی نے عجب راہ پر مجھے آنکھیں ہیں اور کچھ نہیں آتا نظر مجھے
بے خودی نے مجھے ایک عجیب راستے پر لا ڈالا ہے؛ میری آنکھیں تو ہیں مگر مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
6
करना है आज हज़रत-ए-नासेह से सामना मिल जाए दो घड़ी को तुम्हारी नज़र मुझे
کرنا ہے آج حضرت ناصح سے سامنا مل جائے دو گھڑی کو تمہاری نظر مجھے
آج مجھے نصیحت کرنے والے ناصح کا سامنا کرنا ہے، کاش مجھے بس تھوڑی دیر کے لیے آپ کی نگاہ کا سہارا مل جائے۔
7
मस्ताना कर रहा हूँ रह-ए-आशिक़ी को तय ले जाए जज़्ब-ए-शौक़ मिरा अब जिधर मुझे
مستانہ کر رہا ہوں رہ عاشقی کو طے لے جائے جذب شوق مرا اب جدھر مجھے
میں محبت کے راستے کو مستی اور بے خودی کے عالم میں طے کر رہا ہوں، اب میرے شوق اور چاہت کا جذبہ مجھے جدھر بھی لے جائے۔
8
डरता हूँ जल्वा-ए-रुख़-ए-जानाँ को देख कर अपना बना न ले कहीं मेरी नज़र मुझे
ڈرتا ہوں جلوۂ رخ جاناں کو دیکھ کر اپنا بنا نہ لے کہیں میری نظر مجھے
میں محبوب کے چہرے کے جلوے کو دیکھ کر ڈرتا ہوں کہ کہیں میری اپنی ہی نظر مجھے اپنا اسیر نہ بنا لے۔
9
यकसाँ है हुस्न-ओ-इश्क़ की सर-मस्तियों का रंग उन की ख़बर उन्हें है न मेरी ख़बर मुझे
یکساں ہے حسن و عشق کی سر مستیوں کا رنگ ان کی خبر انہیں ہے نہ میری خبر مجھے
حسن اور عشق کی مستی و بے خودی کا رنگ ایک جیسا ہے، نہ انہیں اپنا کوئی ہوش ہے اور نہ مجھے اپنی کوئی خبر ہے۔
10
मरना है उन के पाँव पे रख कर सर-ए-नियाज़ करना है आज क़िस्सा-ए-ग़म मुख़्तसर मुझे
مرنا ہے ان کے پاؤں پہ رکھ کر سر نیاز کرنا ہے آج قصۂ غم مختصر مجھے
مجھے اپنے محبوب کے قدموں میں عاجزی سے اپنا سر رکھ کر مرنا ہے اور آج اپنے دکھ کی داستان کو ختم کرنا ہے۔
11
सीने से दिल अज़ीज़ है दिल से हो तुम अज़ीज़ सब से मगर अज़ीज़ है तेरी नज़र मुझे
سینے سے دل عزیز ہے دل سے ہو تم عزیز سب سے مگر عزیز ہے تیری نظر مجھے
مجھے سینے سے زیادہ دل عزیز ہے اور دل سے زیادہ تم عزیز ہو، لیکن ان سب سے بڑھ کر مجھے تمہاری نظر عزیز ہے۔
12
मैं दूर हूँ तो रू-ए-सुख़न मुझ से किस लिए तुम पास हो तो क्यूँ नहीं आते नज़र मुझे
میں دور ہوں تو روئے سخن مجھ سے کس لیے تم پاس ہو تو کیوں نہیں آتے نظر مجھے
اگر میں تم سے دور ہوں تو تمہاری گفتگو کا رخ میری طرف کیوں ہے، اور اگر تم قریب ہو تو مجھے دکھائی کیوں نہیں دیتے؟
13
क्या जानिए क़फ़स में रहे क्या मोआ'मला अब तक तो हैं अज़ीज़ मिरे बाल-ओ-पर मुझे
کیا جانئے قفس میں رہے کیا معاملہ اب تک تو ہیں عزیز مرے بال و پر مجھے
کون جانے کہ قید میں میرے ساتھ کیا معاملہ پیش آئے، ابھی تک تو مجھے اپنے پر اور بازو عزیز ہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

آیا نہ راس نالۂ دل کا اثر مجھے | Sukhan AI