“In drunken ecstasy, I tread love's boundless way; let the pull of my yearning sweep me wherever it may.”
میں محبت کے راستے کو مستی اور بے خودی کے عالم میں طے کر رہا ہوں، اب میرے شوق اور چاہت کا جذبہ مجھے جدھر بھی لے جائے۔
اس شعر میں شاعر عشق کے کٹھن راستے پر کسی حساب کتاب یا خوف کے بغیر، ایک سرشار اور بےخود مسافر کی طرح گامزن ہے۔ اس نے سفر کا اختیار اپنے ہاتھوں سے چھوڑ کر خود کو ’جذبِ شوق‘ یعنی محبت کی مقناطیسی کشش کے سپرد کر دیا ہے۔ یہ دراصل مکمل سپردگی کی وہ کیفیت ہے جہاں منزل کی پروا ختم ہو جاتی ہے اور دل کا سچا جذبہ ہی رہنما بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
