“Laying my head in humble submission at their feet, I must die; today, I must bring this tale of sorrow to an end.”
مجھے اپنے محبوب کے قدموں میں عاجزی سے اپنا سر رکھ کر مرنا ہے اور آج اپنے دکھ کی داستان کو ختم کرنا ہے۔
شاعر یہاں ہجر اور غم کی لمبی داستان سے تھک کر محبوب کے قدموں میں خود سپردگی کی آخری حد تک پہنچ گیا ہے۔ 'سرِ نیاز' جھکانے کا استعارہ یہ دکھاتا ہے کہ عاشق کے لیے محبوب کے قدموں میں جان دینا کوئی شکست نہیں بلکہ محبت کا سب سے باوقار انجام ہے۔ اس طرح وہ اپنے طویل اور دردناک قصۂ غم کو محبوب کی دہلیز پر ہمیشہ کے لیے سمیٹ دینا چاہتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
