“If I am far away, why direct your speech to me? / If you are near, why do you not appear before my eyes?”
اگر میں تم سے دور ہوں تو تمہاری گفتگو کا رخ میری طرف کیوں ہے، اور اگر تم قریب ہو تو مجھے دکھائی کیوں نہیں دیتے؟
یہ شعر قربت اور دوری کے ایک درد بھرے تضاد کو بڑی خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب سے شکوہ کرتا ہے کہ اگر ہمارے بیچ فاصلہ ہے تو پھر تمہاری گفتگو کا رُخ میری ہی طرف کیوں ہے، اور اگر تم اتنے ہی پاس ہو تو پھر سامنے آ کر دیدار کیوں نہیں کرواتے؟ دراصل یہ اس تڑپ کی عکاسی ہے جہاں محبوب احساس اور خیال میں تو سانس کی طرح قریب محسوس ہوتا ہے، مگر نگاہیں اس کی ایک جھلک کو ترستی رہ جاتی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
