“Dearer than the breast is the heart, and dearer than the heart are you; yet dearest of all to me remains a single glance from you.”
مجھے سینے سے زیادہ دل عزیز ہے اور دل سے زیادہ تم عزیز ہو، لیکن ان سب سے بڑھ کر مجھے تمہاری نظر عزیز ہے۔
اس شعر میں محبت کے مراتب کو بڑے دلکش انداز میں بیان کیا گیا ہے، جہاں سینے سے دل اور دل سے بڑھ کر محبوب عزیز ہے، مگر سب سے بلند محبوب کی نگاہِ التفات ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ محبوب کی ذات اپنی جگہ، مگر اس کی ایک محبت بھری نظر ہی عاشق کے لیے سب سے بڑا انعام ہے۔ یہی وہ نظر ہے جو عاشق کو احساس دلاتی ہے کہ وہ تنہا نہیں بلکہ کسی کی نگاہوں کا نور اور مرکز ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
