“In every direction, that radiant presence appears to me; ah, what endless illusions my own eyes weave for me!”
مجھے ہر سمت وہی جلوہ گر دکھائی دیتے ہیں، میری اپنی نظر مجھے کیسے کیسے فریب دے رہی ہے۔
اس شعر میں عشق کے اس سرور اور دیوانگی کا احوال ہے جہاں دل محبوب کے خیال میں اس قدر ڈوبا ہوتا ہے کہ ہر سمت اسی کا جلوہ دکھائی دینے لگتا ہے۔ شاعر اپنی ہی آنکھوں کے اس حسیں دھوکے پر ایک پردرد مسکراہٹ کے ساتھ حیران ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ حقیقت نہیں بلکہ اس کی اپنی بے چین تمناؤں کا فریب ہے۔ یہ کیفیت محبت کی اس نازک حد کو چھوتی ہے جہاں انسان حقیقت سے باخبر ہوتے ہوئے بھی اس میٹھے التباس سے جدا نہیں ہونا چاہتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
