“Alike is the hue of ecstasy that beauty and love share: she has no knowledge of herself, nor of myself am I aware.”
حسن اور عشق کی مستی و بے خودی کا رنگ ایک جیسا ہے، نہ انہیں اپنا کوئی ہوش ہے اور نہ مجھے اپنی کوئی خبر ہے۔
یہ شعر حسن اور عشق کے درمیان ایک خوبصورت مماثلت اور سرمستی کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جیسے عاشق محبوب کی چاہت میں خود کو بھول جاتا ہے، ویسے ہی محبوب بھی اپنے حسن اور ناز کے نشے میں بے خود ہے۔ یہ محبت کا وہ کمال ہے جہاں دونوں پر خود فراموشی کا ایک سا عالم طاری ہو جاتا ہے اور دنیا کا کوئی ہوش باقی نہیں رہتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
