“Self-oblivion has cast me upon so strange a way: eyes I possess, yet nothing meets my sight.”
بے خودی نے مجھے ایک عجیب راستے پر لا ڈالا ہے؛ میری آنکھیں تو ہیں مگر مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
شاعر بے خودی اور جذب کی اس انوکھی کیفیت کا نقشہ کھینچ رہے ہیں جہاں انسان اپنے وجود اور ہوش و حواس سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔ ظاہری طور پر آنکھیں سلامت ہیں لیکن دنیا کا کوئی نقش دکھائی نہیں دیتا، کیونکہ نگاہیں محبوب کے تصور میں یا اپنے اندر کی گہرائیوں میں الجھ چکی ہیں۔ یہ ظاہری بصارت کے کھو جانے کا دکھ نہیں، بلکہ عشق میں خود کو مکمل طور پر فراموش کر دینے کا دلکش احساس ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
