کیا جانئے قفس میں رہے کیا معاملہ اب تک تو ہیں عزیز مرے بال و پر مجھے

“Who knows what fate awaits me within the cage; as yet, at least, my wings and feathers are dear to me.”

— جگر مرادآبادی
معنی

کون جانے کہ قید میں میرے ساتھ کیا معاملہ پیش آئے، ابھی تک تو مجھے اپنے پر اور بازو عزیز ہیں۔

تشریح

یہ شعر اسیری اور آزادی کی نازک کشمکش کو بے حد دلکش انداز میں پیش کرتا ہے، جہاں روح نے ابھی حالات کے آگے شکست تسلیم نہیں کی۔ قفس میں مقید پرندہ اکثر مایوسی اور بے بسی کے عالم میں اپنے ہی پر نوچ ڈالتا ہے، مگر شاعر کہتا ہے کہ مجھے اب تک اپنی پرواز کی امنگ اور اپنے بال و پر عزیز ہیں۔ یہ دراصل قید و بند کی تلخیوں کے باوجود اپنی خودداری، شناخت اور وقار کو بچائے رکھنے کا پُراثر اظہار ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev13 / 13