“No longer do I taste the sweet delight of an aching heart; could it be that her mischief-making gaze has forgotten me?”
مجھے اب دل کے درد کا لطف نہیں مل رہا ہے؛ کہیں ایسا تو نہیں کہ محبوب کی فتنہ پرداز نگاہ مجھے بھول گئی ہو۔
اردو شاعری کا یہ بڑا دلکش انداز ہے جہاں محبت کا درد کوئی عذاب نہیں بلکہ محبوب کا عنایت کردہ ایک میٹھا احساس ہوتا ہے۔ عاشق کو جب دل کے پرانے درد کی وہ مخصوص لذت محسوس نہیں ہوتی تو وہ تڑپ اٹھتا ہے کہ کہیں محبوب کی فتنہ سامان نظروں نے اسے فراموش تو نہیں کر دیا۔ ایک سچے عاشق کے لیے محبوب کا ستم سہنا آسان ہوتا ہے، مگر اس کی بے رخی اور نظر اندازی ناقابلِ برداشت بن جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
