“The effect of my heart's lamenting did not suit me well at all; now that you have come at last, I have lost all sense of self.”
میرے دل کی فریاد کا اثر مجھے راس نہیں آیا، اور اب جب تم ملے ہو تو مجھے اپنی ہی کوئی خبر نہیں رہی۔
اس شعر میں وصل کی ایک بڑی دلکش اور نازک بے خودی کا بیان ہے۔ شاعر نے مدتوں دل کی گہرائیوں سے آہیں بھر کر محبوب کو پانے کی التجا کی تھی، اور حیرت انگیز طور پر اس کی یہ فریاد رنگ بھی لے آئی۔ مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ جب محبوب واقعی سامنے آیا، تو اس کے جلوے نے شاعر پر ایسا سحر طاری کیا کہ وہ اپنے آپ ہی سے بے خبر ہو گیا—گویا دعا تو قبول ہوئی، مگر خود کو مٹا کر چلی گئی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
