غزل

مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے

مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے
علامہ اقبال· Ghazal· 12 shers· radif: भी छोड़ दे

یہ غزل کمالِ ترک اور بلندیٔ فکر کے فلسفے کو شاندار انداز میں اجاگر کرتی ہے۔ اقبال سالک کو روایتی عشق اور زہد کی حدود سے آگے بڑھ کر دنیا اور عقبیٰ دونوں سے بے نیاز ہو جانے کی ترغیب دیتے ہیں تاکہ حقیقی عرفان نصیب ہو سکے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
मजनूँ ने शहर छोड़ा तो सहरा भी छोड़ दे नज़्ज़ारे की हवस हो तो लैला भी छोड़ दे
مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے نظارے کی ہوس ہو تو لیلیٰ بھی چھوڑ دے
اگر مجنوں نے شہر چھوڑ دیا ہے تو اسے صحرا بھی چھوڑ دینا چاہیے، اور اگر اسے حقیقی نظارے کی تمنا ہے تو اسے لیلیٰ کو بھی چھوڑ دینا چاہیے۔
2
वाइ'ज़ कमाल-ए-तर्क से मिलती है याँ मुराद दुनिया जो छोड़ दी है तो उक़्बा भी छोड़ दे
واعظ کمال ترک سے ملتی ہے یاں مراد دنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے
اے واعظ! یہاں مراد مکمل طور پر سب کچھ چھوڑ دینے سے ہی ملتی ہے؛ اگر تو نے دنیا ترک کر دی ہے تو پھر آخرت کی طلب بھی چھوڑ دے۔
3
तक़लीद की रविश से तो बेहतर है ख़ुद-कुशी रस्ता भी ढूँड ख़िज़्र का सौदा भी छोड़ दे
تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خودکشی رستہ بھی ڈھونڈ خضر کا سودا بھی چھوڑ دے
اندھی تقلید کی راہ پر چلنے سے تو خودکشی کر لینا بہتر ہے؛ اپنا راستہ خود تلاش کرو اور خضر جیسے رہنما کا سہارا لینے کا خیال چھوڑ دو۔
4
मानिंद-ए-ख़ामा तेरी ज़बाँ पर है हर्फ़-ए-ग़ैर बेगाना शय पे नाज़िश-ए-बेजा भी छोड़ दे
مانند خامہ تیری زباں پر ہے حرف غیر بیگانہ شے پہ نازش بے جا بھی چھوڑ دے
قلم کی مانند تمہاری زبان پر بھی دوسروں ہی کی بات ہے، اس لیے کسی پرائی چیز پر یہ بے جا فخر کرنا چھوڑ دو۔
5
लुत्फ़-ए-कलाम क्या जो न हो दिल में दर्द-ए-इश्क़ बिस्मिल नहीं है तू तो तड़पना भी छोड़ दे
لطف کلام کیا جو نہ ہو دل میں درد عشق بسمل نہیں ہے تو تو تڑپنا بھی چھوڑ دے
اگر دل میں عشق کا درد نہ ہو تو کلام یا بات چیت کا کیا مزہ؟ اور اگر تم سچ مچ زخمی نہیں ہو تو پھر تڑپنا بھی چھوڑ دو۔
6
शबनम की तरह फूलों पे रो और चमन से चल इस बाग़ में क़याम का सौदा भी छोड़ दे
شبنم کی طرح پھولوں پہ رو اور چمن سے چل اس باغ میں قیام کا سودا بھی چھوڑ دے
شبنم کی طرح پھولوں پر آنسو بہا کر اس چمن سے رخصت ہو جاؤ، اور اس باغ میں ہمیشہ قیام کرنے کا سودا اور ارادہ بھی ترک کر دو۔
7
है आशिक़ी में रस्म अलग सब से बैठना बुत-ख़ाना भी हरम भी कलीसा भी छोड़ दे
ہے عاشقی میں رسم الگ سب سے بیٹھنا بت خانہ بھی حرم بھی کلیسا بھی چھوڑ دے
عاشقی کی یہ رسم ہے کہ سب سے الگ تھلگ بیٹھا جائے، اس لیے بت خانہ، حرم اور گرجا گھر سب کو چھوڑ دو۔
8
सौदा-गरी नहीं ये इबादत ख़ुदा की है ऐ बे-ख़बर जज़ा की तमन्ना भी छोड़ दे
سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے اے بے خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے
یہ خدا کی عبادت ہے، کوئی تجارت نہیں؛ اے بے خبر، تُو بدلے یا جزا کی خواہش بھی ترک کر دے۔
9
अच्छा है दिल के साथ रहे पासबान-ए-अक़्ल लेकिन कभी कभी इसे तन्हा भी छोड़ दे
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
یہ اچھا ہے کہ عقل دل کی نگہبان بن کر اس کے ساتھ رہے، لیکن کبھی کبھی دل کو تنہا بھی چھوڑ دینا چاہیے۔
10
जीना वो क्या जो हो नफ़स-ए-ग़ैर पर मदार शोहरत की ज़िंदगी का भरोसा भी छोड़ दे
جینا وہ کیا جو ہو نفس غیر پر مدار شہرت کی زندگی کا بھروسا بھی چھوڑ دے
وہ بھی کیا جینا ہے جس کا دارومدار دوسروں کے دم یا سہارے پر ہو۔ انسان کو شہرت پر مبنی زندگی کا بھروسا بھی چھوڑ دینا چاہیے۔
11
शोख़ी सी है सवाल-ए-मुकर्रर में ऐ कलीम शर्त-ए-रज़ा ये है कि तक़ाज़ा भी छोड़ दे
شوخی سی ہے سوال مکرر میں اے کلیم شرط رضا یہ ہے کہ تقاضا بھی چھوڑ دے
اے کلیم (موسیٰ)، بار بار سوال دہرانے میں ایک طرح کی گستاخی ہے؛ رضائے الٰہی کی شرط تو یہ ہے کہ تم تقاضا کرنا بھی چھوڑ دو۔
12
वाइ'ज़ सुबूत लाए जो मय के जवाज़ में 'इक़बाल' को ये ज़िद है कि पीना भी छोड़ दे
واعظ ثبوت لائے جو مے کے جواز میں اقبالؔ کو یہ ضد ہے کہ پینا بھی چھوڑ دے
اگر واعظ شراب کے جائز ہونے کے حق میں کوئی ثبوت بھی لے آئے، تو اقبال کی یہ ضد ہے کہ وہ شراب پینا ہی چھوڑ دے گا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.