“If Majnun renounced the city, let him abandon the desert too; if he truly yearns for the ultimate vision, let him leave even Laila behind.”
اگر مجنوں نے شہر چھوڑ دیا ہے تو اسے صحرا بھی چھوڑ دینا چاہیے، اور اگر اسے حقیقی نظارے کی تمنا ہے تو اسے لیلیٰ کو بھی چھوڑ دینا چاہیے۔
یہ شعر عشقِ مجازی سے عشقِ حقیقی کی طرف بلند پروازی کی ایک خوبصورت دعوت ہے۔ شاعر مجنوں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ تم نے لیلیٰ کی خاطر دنیا اور شہر تو چھوڑ دیا اور صحرا میں جا بسے، لیکن اگر دیدارِ الٰہی کی سچی طلب ہے تو اس صحرا اور خود لیلیٰ کے واسطے سے بھی آگے نکلنا ہوگا۔ مدعا یہ ہے کہ اصل جلوۂ حق کے مشاہدے کے لیے انسان کو تمام ظاہری سہاروں اور علامتوں کو ترک کرنا پڑتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
