“What life is that which must depend upon another's breath? / Renounce all faith in living for renown.”
وہ بھی کیا جینا ہے جس کا دارومدار دوسروں کے دم یا سہارے پر ہو۔ انسان کو شہرت پر مبنی زندگی کا بھروسا بھی چھوڑ دینا چاہیے۔
اس شعر میں شاعر خودداری اور حقیقی آزادی کا درس دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ جینا بھی بھلا کیا جینا ہے جس کی سانسیں دوسروں کی مرضی اور رائے کی محتاج ہوں۔ شہرت کی زندگی محض ایک سراب ہے جو کسی بھی لمحے بکھر سکتی ہے کیونکہ وہ غیروں کی پسند پر ٹکی ہوتی ہے۔ شاعر ہمیں باور کراتے ہیں کہ ہجوم کی تالیوں کے سحر سے نکل کر اپنے بل بوتے اور اپنے اصولوں پر جینا ہی اصل زندگی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
