“What joy can words impart without love's ache within the heart? If you are not the wounded prey, then cease to writhe and play the part.”
اگر دل میں عشق کا درد نہ ہو تو کلام یا بات چیت کا کیا مزہ؟ اور اگر تم سچ مچ زخمی نہیں ہو تو پھر تڑپنا بھی چھوڑ دو۔
شاعر یہاں گفتگو اور شاعری کی تاثیر کا راز دل کے سچے درد کو قرار دیتے ہیں، کیونکہ جب تک دل میں محبت کی حقیقی کسک نہ ہو، باتوں میں کوئی لطف پیدا نہیں ہو سکتا۔ 'بسمل' اس زخمی شکار کو کہا جاتا ہے جو تیر کھا کر تڑپتا ہے؛ اس لیے شاعر کہتے ہیں کہ اگر آپ عشق کے زخم سے گھائل ہی نہیں ہوئے تو محض تڑپنے کا دکھاوا چھوڑ دیں۔ سچی شاعری وہی ہے جو لفاظی کے بجائے دل کے اصل گھاؤ سے نکل کر روح کو چھو لے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
